شیخ سعدی بیان کرتےہیں
بچے کی عمر دس سال سے زیادہ ہوجائے اسے نا محرموں اور ایروں غیروں میں نہ بیٹھنے دو۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا نام باقی رہے تو اولاد کو اچھے اخلاق کی تعلیم دے۔اگر تجھے بچے سے محبت ہے تو اس سے زیادہ لاڈ پیار نہ کر۔بچے کو استاد کا ادب سیکھاؤ اور استاد کی سختی سہنے کی عادت ڈالو۔
بچے کی تمام ضروریات کو خود پورا کرو اور اسے ایسے عمدہ طریقے سے رکھو کہ وہ دوسروں کی جانب نہ دیکھے۔ شروع شروع میں پڑھاتے وقت شاباش سے بچے کی حوصلہ افزائی اور تعریف کرو وہ جب اس طرف راغب ہوجائے اسے اچے اور برے کی تمیزسیکھاو اور ضرورت پڑے تو سختی بھی کرو۔ بچے کو دستکاری یعنی ہنر سیکھاو، اگر وہ ہنر مند ہوگا تو برے دنوں میں بھی کسی کے سامنے ہاتھ پگیلانے کی بجائے اپنے ہنر سے مدد لے گا۔بچوں پر کڑی نظر رکھو تا کہ وہ بْروں کی برائی سے بچا رہے

No comments