سعدی کے اقوال
انسان کی گفتگو سے اس کا وزن کیا جاتاہے اور اس کے کردار سے اسکی قیمت لگائی جاتی ہے ۔۔
منصف اور عادل کو اللہ اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا۔
آدمی وہ ہے جس کی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچے ورنہ پتھر ہے۔
نیکی کرنے والا نیکی کا صلہ ضرور پاتا ہے۔
بے رحم انسان نہیں درندہ ہے۔
نیک نیت کی وجہ سے کام نیک اور بری نیت کی بدولت برا ہوجاتاہے۔
مظلوم کی تکلیف تو چند ساعت کی ہوتی ہے مگر ظالم ابدی مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
نصیحت اگرچہ ناخوشگوار ہوتی ہے لیکن اس کا انجام خوشگوار ہوتاہے۔
ظالم جب تک ظلم نہیں چھوڑتا اس کے حق میں کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔
دنیا بے وفا اور انتہائی ناقابل اعتبار ہے اس سے فائدہ وہی شخص اٹھاتاہے جو اسے مخلوق خدا کی اصلاح اور فلاح میں لگا دیتاہے۔
دولت کو صدقہ جاریہ میں لگاؤ آخرت میں کام آئے گی۔
حمد و شکر بہتر ہے شکوہ وشکایت سے ۔۔۔۔
ہمیشہ زندگی اس طرح بسر کریں کہ دیکھنے والے تمہارے درد پر افسوس کی بجائے تمہارے صبر پر رشک کریں۔۔
جن کے دلوں میں رحم،طبیعت میں سادگی ،احساس میں خلوص اور سوچ میں سچائی ہے ۔۔ایسے انسانوں کا وجود ’’ اللہ‘‘ کی طرف سے مخلوق کے لیے نعمت ہے۔
مشکل وقت دنیا کا سب سے بڑا جادوگر ہے ۔۔جو ایک لمحے میں آپ کے چاہنے والوں کے چہروں سے نقاب ہٹا دیتاہے ۔۔
سچائی انسان کی رہائی کا وسیلہ ہے ۔۔
کسی دانا شخص نے کیا خوب کہا ہے ۔۔یہ مت کہا کروکہ میں بے نماز ہوں۔۔بلکہ یہ کہا کرو میں اتنا بے نصیب اور بد بخت ہوں کہ اللہ نے اپنے سامنے کھڑاکرنے کے لائق ہی نہیں سمجھا۔۔
جسمانی امراض پرہیز سے جاتے ہیں اور روحانی امراض پرہیزگاری سے جاتے ہیں۔۔
چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے بڑے رشتوں میں ایسے بدگمانی کے سوراخ کردیتی ہے کہ انسان ساری عمر ان سوراخوں میں وضاحتوں کی اینٹیں لگا کر بھی اپنے خوبصورت رشتوں کو بچا نہیں سکتا ۔۔
عقل جتنی چھوٹی ہو گی زبان اتنی لمبی ہوگی کیونکہ برتن وہی شور کرتاہے جو خالی ہو۔۔
صبر کریں تو اذیت بھی اجر بن جاتی ہے ۔۔

No comments