احسان کی رسی،حکایات شیخ سعدی سے دلچسپ اقتباس
حضرت سعدی ی نے ایک شخص کو دیکھا جو بکری کی رسی تھامے چل رہا تھا، بکری اس کے پیچھے چل رہی تھی۔ جیسے اسے اپنے گلے میں رسی کا پھندا ہونے کا احساس نہ ہو۔ حضرت سعدی- نے اس شخص سے کہا کہ بکری اس لئے تیرے پیچھے جا رہی ہے کہ اس کے گلے میں رسی ہے، یہ سنتے ہی اس شخص .نے جھٹ پٹ رسی کھول دی
تو بکری پھر بھی اس شخص کے پیچھے چلتی رہ۔ وہ شخص بولا! بکری کو رسی نے نہیں میرے احسان نے میرا مطیع بنایا ہے، میں نے اسے کبھی بھوکا پیاسا نہیں رہنے دیا، اسے خوب کھلاتا پلاتا ہوں، احسان کی رسی سے مضبوط کوئی رسی نہیں۔
اس حکایت میں حضرت سعدی نے حقیقی دوست اور خیر خواہ پیدا کرنے کا زریں اصل بتایا ہے کہ اگر حسن سلوک سے دل جیت لیا جائے تو ان کے اطاعت حقیقی اطاعت ہو گی۔

No comments