حکایت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ
(19)
فلاح کی بات
ایک شخص قضائے الہٰی سے فوت ہو گیا۔ اس کے عزیز و اقارب رونے دھونے اور سینہ کوبی میں مصروف تھے۔ ایک مرد دانا نے ان کو اس حال میں دیکھ کر کہا کہ بجائے اپنے عزیز کے انجام سے آگاہ ہونے تم الٹا کام کر رہے ہو۔ یاد رکھو! بچہ پاک ہی آیا تھا اور پاک ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ رونا تو اس بات پر آنا چاہیے کہ جب میں اس دنیا میں آیا تھا تو پاک تھا اور جب رخصت ہوں گا تو گناہوں کی ناپاکی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہوں گا۔ تجھے چاہیے کہ موت آنے سے پہلے اگلے جہاں کی فکر کرتا کہ وہاں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
حاصل کلام
موت نہ ٹلنے والی حقیقت ہے جو ہر حال میں آکر رہے گی۔ بہتر یہی ہے کہ حاصل زندگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے اچھے اعمال کرنے چاہئیں۔ اس میں فلاح آخرت ہے۔

No comments