معالج کیا کرے
عجم کے کسی بادشاہ نے ایک اعلیٰ پائے کا حکیم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ وہ حکیم کئی سال مدینہ شریف میں رہا۔ کوئی ایک شخص بھی اس کے پاس علاج کے لیے نہ آیا۔ ایک دن وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں اس شکایت کے ساتھ حاضر ہوا۔
"یہ خادم یہاں کے لوگوں کے علاج معالجہ کے لیے آیا لیکن اتنی مدت گزرنے کے باوجود کسی نے میری طرف توجہ ہی نہیں کی اور نہ ہی علاج کے لیے کوئی بیمار میرے پاس آیا ہے۔"
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ان کا دستور یہ ہے کہ بلا تیز بھوک کھاتے نہیں اور کھاتے وقت ابھی بھوک باقی ہوتی ہے تو اپنا ہاتھ کھانے سے کھینچ لیتے ہیں۔"
حاصل کلام
ہمیشہ تندرست رہنے کا راز یہی ہے کہ بلا تیز بھوک مت کھاؤ اور ابھی بھوک باقی ہو تو اس سے ہاتھ کھینچ لو۔ انسان کبھی بیمار نہیں ہوتا۔

No comments